تل ابیب،12مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پولیس نے کہا ہے کہ اسرائیل میں ایک 14 سالہ لڑکے کو آزاد کروا لیا گیا ہے جسے اطلاعات کے مطابق اس کے والدین نے پیدائش کے بعد سے گھر کے اندر بند رکھا ہوا تھا۔آرمی ریڈیو نے بتایا ہے کہ لڑکے نے پولیس کو بتایا ہے کہ اسے مہینے میں ایک یا دو بار حیدرہ قصبے میں واقع عمارت کے صحن تک لے جایا جاتا تھا۔اس کے علاوہ بعض اوقات اسے اپارٹمنٹ کے باہر ایک عارضی پنجرے میں بھی رکھا جاتا تھا۔والدین کو گرفتار کر لیا گیاہے، جنھوں نے پولیس کو بتایا کہ لڑکے کو اس کی صحت کے بارے میں تشویش کی وجہ سے بند رکھا گیا تھا۔ہمسائیوں نے مقامی بلدیہ میں شکایت درج کروائی تھی کہ اس اپارٹمنٹ سے بدبو آتی ہے۔ایک ہمسائے نے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ انھوں نے کھڑکی سے لڑکے کو دیکھنے کے بعد حکام کو مطلع کیا۔ وہ ڈراؤنی فلموں کا زامبی لگتا تھا۔چیکو واکنن نے کہا کہ میں نے اس کی آنکھیں دیکھیں، جس طرح وہ دیکھ رہا تھا، تو ان میں ’’مدد‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اس لیے میں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔لڑکے کے والدین روسی نڑاد ہیں اور ان کی عمریں 60 برس کے قریب ہیں۔ وہ 2009 میں تل ابیب کے شمال میں واقع حیدرہ میں آ بسے تھے، لیکن انھوں نے نہ تو مقامی حکام کو بتایا کہ ان کا کوئی لڑکا بھی ہے اور نہ ہی اسے سکول میں داخل کروایا۔مقامی میڈیا کے مطابق لڑکے کی ماں کے وکیل نے کہا کہ وہ لڑکے کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے تھے جس کی صحت خراب تھی۔